اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور اسکے لئے نیکیوں کا سلسلہ تمام نیکی کرنے والوں کی مانند جاری رہتا ہے۔(ابن ماجہؒ) 155

اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور اسکے لئے نیکیوں کا سلسلہ تمام نیکی کرنے والوں کی مانند جاری رہتا ہے۔(ابن ماجہؒ)

اعتکاف کا معنی ہے “ایک جگہ ٹھہرنا اور کسی مکان میں بند رہنا” اعتکاف کرنا اس مسلمان کا معتبر ہے جو عاقل ہو اور جنابت و حیض و نفاس سے پاک ہو۔

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔

(1)سنت مؤکدہ علی الکفایہ

(2)واجب

(3)مستحب

سنت مؤکدہ علی الکفایہ وہ اعتکاف ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ جبکہ واجب اعتکاف وہ ہے کہ کوئی مسلمان یہ نزر مانے کہ اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں اتنے دنوں اعتکاف کرونگا یا اسطرح بول دے کہ میں اللہ تعالی کے لئے اپنے اوپر اتنے دنوں کا اعتکاف لازم کرتا ہوں۔ اعتکاف واجب کے لئے ہمارا یعنی احناف کا مسلک یہ ہے کہ اعتکاف واجب کیلئے روزہ رکھنا واجب ہے اور شوافع کا مسلک یہ ہے کہ اعتکاف واجب کیلئے روزہ رکھنا شرط نہیں ہے ان کے ہاں اگر روزہ نہ رکھے تو پھر بھی اعتکاف واجب ادا ہو جائے گا۔

اعتکاف کی تیسری قسم جسکو مستحب یا نفلی اعتکاف کہا جاتا ہے۔ یہ وہ اعتکاف ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ کے سوا اور کسی زمانہ میں خواہ رمضان کا پہلا،دوسرا عشرہ ہو یا اور کوئی مہینہ ہو اعتکاف کرنا مستحب ہے۔ اور اس اعتکاف کیلئے روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ روزے کے بغیر بھی یہ اعتکاف ادا ہوتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا ہے کہ نبی کریمﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے حتی کہ اللہ تعالی نے آپﷺکو اس دنیا سے اٹھایا، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ (بخاریؒ و مسلمؒ)

اس حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ کے وصال کے بعد آپﷺ کے ازواج مطھرات نے اپنے گھروں میں اعتکاف کیا ہے اسلئے فقہاء نے لکھا ہے کہ عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ وہ مسجدالبیت(گھر کی مسجد) میں اعتکاف کریں، اگر مسجدالبیت نہ ہو تو مکان کے کسی حصہ کو مسجد قرار دے کر اس میں اعتکاف کریں۔ اور بلا ضرورت اس حصہ سے باہر نہ نکلیں، مکان کا وہ حصہ ہی ان کے حق میں مسجد کے حکم میں ہو جائے گا، چنانچہ عورتوں کا مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اسکے لئے نیکیوں کا سلسلہ تمام نیکی کرنے والوں کی مانند جاری رہتا ہے۔ (ابن ماجہؒ)

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اعلی اور نیک مقاصد (مثلا: اعتکاف کی نیت) کے ساتھ مسجد میں ٹھہرا رہتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ اکثر گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اور اعتکاف کرنے والا اپنے اعتکاف کی وجہ سے جن نیک اعمال مثلا: عیادت مریض، نماز جنازہ کے ساتھ جانا، مسلمانوں کے ساتھ ملاقات و نیک معاملات یا اسی قسم کے دوسرے امور میں شرکت نہیں کر سکتا ہے۔ تو اس حدیث  سے واضح ہوا ہے کہ اسے ان نیک اعمال کا اسی طرح ثواب دیا جاتا ہے جس طرح ان اعمال کے کرنے والوں کو۔

اعتکاف کے بارے میں چند ضروری مسائل:

(1)رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترک سنت کا وبال رہتا ہے۔ اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کر لے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہو جاتی ہے۔

(2) بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں، بلکہ مکروہ ہے۔ البتہ نیک کام کرنا، اور لڑائی جھگڑوں اور فضول باتوں سے بچنا چاہیئے۔

(3) اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں ہے نماز، تلاوت، یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔

(4) جس مسجد میں اعتکاف کیا گیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لئے اندازہ کر کے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے، اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔

(5) اگر بلا ضرورت طبعی و شرعی تھوڑی دیر کوبھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا خواہ عمدا نکلے یا بھول کر، اس صورت میں اعتکاف کی قضاء کرنی چاہیئے۔

(6) اگر آخری عشرہ کا اعتکاف کرنا ہو تو 20 تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے، اور جب عید کا چاند نظر آ جائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔

(7) غسل جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لئے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا معتکف کے واسطے جائز نہیں۔

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں