مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوی نبوت کے بعد اکابر علمائے دیوبند نے جو گرانقدر خدمات اس محاذ کے مختلف میدانوں میں سرانجام دی ہیں۔ انکا مختصر تذکرہ 198

مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوی نبوت کے بعد اکابر علمائے دیوبند نے جو گرانقدر خدمات اس محاذ کے مختلف میدانوں میں سرانجام دی ہیں۔ انکا مختصر تذکرہ

تمام امت مسلمہ کا یہ درست عقیدہ ہے کہ انبیاء کی شروعات حضرت آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے ہوئی اور اختتام سیدالانبیاءوالرسل حضرت محمد مصطفیﷺ پر ہوئی اور حضرت محمد مصطفیﷺ کے بعد کوئی بھی کسی قسم کا بھی نبی یا رسول اس دنیا میں نہیں آئے گا۔ نبوت حضرت محمدﷺ پر ختم ہو گئی ہے اس عقیدے پر قرآن و حدیث میں بہت سارے دلائل موجود ہیں۔ اور امت مسلمہ کا یہ بھی درست عقیدہ ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کا نزول ہے لیکن عیسی علیہ الصلوۃ و السلام بھی حضور نبی کریمﷺ کا امتی بن کر آئینگے اور حضور نبی کریمﷺ ہی کی شریعت پر عمل کرینگے نہ کہ اپنی شریعت پر۔ اب اگر حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی شخص نبوت کا دعوی کرتا ہے تو جسطرح حضرت محمدﷺ نے دعوی نبوت کرنے والوں کے ساتھ قتال کیا ہے اور ان کو جہنم رسید کیا ہے اسی طرح امت کو بھی اس شخص کے ساتھ قتال کرنا ہے کیونکہ حضور نبی کریمﷺ نے امت کو یہی تعلیم دی ہے۔ قارئین کرام کے علم میں ہو کہ 1882 میں مرزا غلام احمد جن کا تعلق متحدہ ہندوستان کے گاؤں قادیان سے تھا نے دعوی کیا کہ انہیں بزریعہ الہام اس زمانہ کیلئے اسلام کی خدمت پر مامور کیا گیا ہے۔ اور پھر بعد میں چلتے چلتے اس نے نبوت کا حتی کہ خدائی کا بھی دعوی کیا۔ لیکن لوگوں میں کچھ ایسے عقل کے اندھے بھی تھے جنہوں نے اس کی باتوں پر یقین کر لیا اور آج اسکے پیروکار پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی تعداد 2 کروڑسے زیادہ ہے۔ لیکن علماء نے انکا وہ حشر کر دیا کہ انکی آنے والی پشتیں بھی قیامت تک یاد رکھیں گیں۔

برصغیر میں جب انگریز نے اپنے استبدادی پنجے مضبوطی سے گاڑ لئے تو اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کی۔ دیگر ضمیر ودین فروشوں اور فتویٰ بازوں کے علاوہ اسے ایک ایسے مدعی نبوت کی ضرورت پیش آئی جو اس کے ظالمانہ و کافرانہ نظام حکومت کو ’’سندالہام‘‘ مہیا کرسکے۔ اس کے لئے اس نے ہندوستان بھر کے ضمیر فروش طبقات سے اپنے مطلب کا آدمی تلاش کرنے کے لئے سروے شروع کیا۔ ﷲ رب العزت کی قدرت کے قربان جایئے کہ قادیانی فتنہ کے جنم لینے سے قبل دارالعلوم دیوبند کے مورث اعلیٰ حضرت حاجی امدادﷲ مہاجر مکیؒ پر بطور کشف کے ﷲ تعالیٰ نے منکشف فرمادیا تھا کہ ہندوستان میں ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں ایک دن ان کے ہاں مولانا پیرمہر علی شاہ گولڑویؒ تشریف لے گئے۔ تو آپ نے حضرت پیر صاحبؒ سے فرمایا:ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہوگا۔ تم ضرور اپنے وطن میں واپس چلے جائو۔ اگر بالفرض تم ہندوستان میں خاموش بھی بیٹھے رہے۔ تو وہ فتنہ ترقی نہ کرے گا اور ملک میں سکون ہوگا۔ حاجی صاحبؒ کی فتنہ سے مراد فتنہ قادیانیت تھی۔(ملفوظات طیبہ ص ۱۲۶، تاریخ مشائخ چشت ص ۷۱۳، ۷۱۴، بیس بڑے مسلمان ص ۹۸، مہر منیر ص ۱۲۹)

اس سے اتنی بات پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ مرزا قادیانی کے فتنہ انکار ختم نبوت سے قبل ہی حق تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے متوجہ فرمادیا۔ اس پر حق تعالیٰ شانہ کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے کہ سب سے پہلے فتنہ قادیانیت کی تردیدی وتکفیری مہم کے لئے حق تعالیٰ نے جس جماعت کا انتخاب کیا۔ وہ علمائے دیوبند کی جماعت تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے منصوبہ کے مطابق مبلغ، مناظر، مجدد، مہدی، مسیح، ظلی و بروزی، تشریعی نبی اور پھر معاذﷲ خدا ہونے کے دعوے کئے۔ اس کی سب سے پہلی کتاب جس وقت منظر عام پر آئی اور مرزا ابھی تعارف اور جماعت سازی کے ابتدائی مرحلے مکمل کرنے کے درپے تھا۔ اس وقت سب سے پہلے جس مردخدا ، عارف باللہ نے پڑھنے پڑھانے سے نہیں۔ بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے باطن کی صفائی کی بنیاد پر مرزا کے کافر و مردود اور اسلام سے برگشتہ ہونےکا نعرئہ مستانہ بلند کیا۔ وہ دیوبند کے سرخیل حضرت میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ تھے۔ میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ کے پاس مرزا کی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لئے قادیانی وفد حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے پوچھتے ہو تو سن لو۔ یہ شخص تھوڑے دنوں میں ایسے دعوے کرے گا۔ جو نہ رکھے جائیں گے، نہ اٹھائے جائیں گے۔ قادیانی وفد یہ سن کر جزبز ہونے لگا کہ دیکھو علماء تو علماء۔ درویش کو بھی دوسرے لوگوں کا شہرت پانا گراں گزرتا ہے۔ میاں صاحبؒ نے فرمایا مجھ سے پوچھا ہے تو جو سمجھ میں آیا بتادیا۔ ہم تو اس وقت زندہ نہ ہوں گے۔ تم آگے دیکھ لینا۔(ماخوذ از ارشادات قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ص۱۲۸)

قادیانیوں کے خلاف پہلا فتویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی نے اب پرپرزے نکالے۔ جماعت سازی کے لئے۱۳۰۱ھ مطابق ۱۸۸۴ء میں لدھیانہ آیا تو مولانا محمد لدھیانویؒ، مولانا عبداﷲ لدھیانویؒ اور مولانا محمد اسمٰعیل لدھیانویؒ نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مجدّد نہیں بلکہ زندیق اور ملحد ہے۔ (فتاویٰ قادریہ ص۳)

ﷲ رب العزت کا کرم تو دیکھئے! سب سے پہلے دیوبند مکتبہ فکر کے علمائے کرام کی جماعت کو مرزا غلام احمد قادیانی پر کفر کا فتو یٰ دینے کی توفیق ہوئی۔ یہ مولانا محمد لدھیانویؒ معروف احرار رہنما مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے دادا تھے۔ ان حضرات کا فتویٰ مرزا قادیانی کے کفر کو الم نشرح کرنے کے لئے کھڑے پانی میں پتھر پھینکنے کے مترادف ہوا۔ اس کی لہریں اٹھیں۔ حالات نے انگڑائی لی پھر:لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مولانا محمد حسین بٹالوی وغیرہ مرزا قادیانی کی کتب پر مثبت رائے کا اظہار کررہے تھے۔ ۱۸۹۰ء میں انہوں نے بھی مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا۔ مرزا قادیانی نے انگریز کے ایما پر رسائل و کتب شائع کیں۔ ہندوستان کے علمائے کرام حسب ضرورت اس کی تردید میں کوشاں رہے۔ قارئین کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ باضابطہ فتویٰ مرتب کرکے متحدہ ہندوستان کے تمام سرکردہ جید علمائے کرام سے فتویٰ لینے کی سعادت بھی ﷲ تعالیٰ نے دیوبند کو نصیب فرمائی۔ دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا محمد سہولؒ نے ۱۲؍ صفر ۱۳۳۱ھ کو فتویٰ مرتب کیا کہ:۱… مرزا غلام احمد قادیانی مرتد، زندیق، ملحد اور کافر ہے۔

۲… یہ کہ اس کے ماننے والوں سے اسلامی معاملہ کرنا شرعاً ہرگز درست نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مرزائیوں کو سلام نہ کریں۔ ان سے رشتہ ناتہ نہ کریں۔ ان کا ذبیحہ نہ کھائیں۔ جس طرح یہود، ہنود، نصاریٰ سے اہل اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں۔ اسی طرح مرزائیوں سے بھی علیحدہ رہیں۔ جس طرح بول و براز، سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔

۳… مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسے ہے۔ جیسے یہود و نصاریٰ اور ہندو کے پیچھے نماز پڑھنا۔

۴… مرزائی مسلمانوں کی مساجد میں نہیں آسکتے۔ مرزائیوں کو مسلمانوں کی مساجد میں عبادت کی اجازت دینا ایسے ہے۔ جیسے ہندوؤں کو مسجد میں پوجا پاٹ کی اجازت دینا۔

۵… مرزا غلام احمد قادیانی، قادیان (مشرقی پنجاب ہندوستان) کا رہائشی تھا۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو ’’قادیانی‘‘ یا ’’فرقہ غلامیہ‘‘ بلکہ جماعت شیطانیہ ابلیسیہ کہا جائے۔

اس فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا عبدالسمیع، حضرت مفتی عزیزالرحمن دیوبندیؒ، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا اعزاز علی دیوبندیؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن ایسے دیگر اکابر علمائے کرام شامل تھے جن کا تعلق دیوبند، سہارنپور، دہلی، کلکتہ، ڈھاکہ، پشاور، رام پور، راولپنڈی، ہزارہ، مراد آباد، وزیر آباد، ملتان اور میانوالی وغیرہ سے تھا۔ آپ اس سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ کتنا وقیع اور جاندار فتویٰ تھا۔ آج سو سال کے بعد جبکہ قادیانیت کا کفر عیاں و عریاں ہے۔ بایں ہمہ اس فتویٰ میں ذرہ برابر زیادتی کرنا ممکن نہیں۔ ان اکابر نے سوچ سمجھ کر اتنا جاندار فتویٰ مرتب کیا۔ اس میں تمام جزئیات کو شامل کرکے اتنا جامع بنادیا کہ ایک صدی گزرنے کے باوجود اس کی آب و تاب و جامعیت جوں کی توں باقی ہے۔

اس کے بعد ۱۳۳۲ھ میں دارالعلوم دیوبند سے ایک فتویٰ جاری ہوا جس میں قادیانیوں سے رشتہ ناتہ کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ یہ فتویٰ حضرت مولانا مفتی عزیزا لرحمن صاحب کا مرتب کردہ ہے۔ اس پر دیوبند سے حضرت مولانا سید اصغر حسینؒ، حضرت مولانا رسول خانؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، حضرت مولانا گل محمد خانؒ، سہارنپور سے مظاہرالعلوم کے مہتمم حضرت مولانا عنایت الٰہیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ، حضرت مولانا عبداللطیفؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، تھانہ بھون سے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، رائے پور سے حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، دہلی سے حضرت مولانا مفتی کفایت اﷲ دہلویؒ، غرض کلکتہ، بنارس، لکھنؤ، آگرہ، مرادآباد، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، راولپنڈی، ملتان، ہوشیارپور، گورداسپور، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حیدرآباد دکن، بھوپال، رام پور، وغیرہ سے سینکڑوں علمائے کرام کے دستخط ہیں۔ اس فتویٰ کا نام ’’فتویٰ تکفیر قادیان‘‘ ہے۔ یہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سے شائع ہوا۔

قادیانیوں کے خلاف مقدمات

حضرات علمائے دیوبند کی مساعی جمیلہ کے صدقے پوری امت کے تمام مکاتب فکر قادیانیوں کے خلاف صف آرا ہوگئے تو پورے متحدہ ہندوستان میں قادیانیوں کا کفر امت محمدیہؐ پر آشکارا ہوا۔ یوں تو ہندوستان کی مختلف عدالتوں نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے دیئے۔ ماریشس تک کی عدالتوں کے فیصلہ جات قادیانیوں کے خلاف موجود ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ جس مقدمہ نے شہرت حاصل کی اور جو ہر عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن گیا وہ ’’مقدمہ بہاولپور‘‘ ہے۔ علمائے بہاولپور کی دعوت پر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا ابو الوفا شاہجہانپوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ایسے اکابر علمائے دیوبند نے بہاولپور ایسے دور افتادہ شہر آکر کیس کی وکالت کی۔ اس مقدمہ کی ۱۹۲۶ء سے لے کر ۱۹۳۵ء تک کارروائی چلتی رہی۔ اس مقدمہ میں جج نے قادیانیت کے کفر پر عدالتی مہر لگا کر قادیانیت کے وجود میں ایسی کیل ٹھونکی جس سے قادیانیت بلبلا اٹھی۔ سپریم کورٹ کے تمامفیصلوں کی بنیاد یہی فیصلہ ہے جس کی کامیابی میں فرزندان دیوبند سب سے نمایاں ہیں۔ فالحمد ﷲ اوّلاً و آخراً۔

قادیانیت کا جماعتی سطح پر احتساب

فرد کا مقابلہ فرد اور جماعت کا مقابلہ جماعت ہی کرسکتی ہے۔ چنانچہ مارچ ۱۹۳۰ء کو لاہور میں انجمن خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں جو حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت پر منعقد ہوا تھا۔ ملک بھر سے پانچ سو علمائے کرام کے اجتماع میں امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے حضرت مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور قادیانیت کے محاذ کی ان پر ذمہ داری ڈالی۔ اس وقت قادیانیت کے خلاف افراد اور اداروں کی محنت میں دارالعلوم دیوبند کا کردار قابل رشک تھا۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانی حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ تو گویا تکوینی طور پر محاذ ختم نبوت کے انچارج تھے۔ قادیا نیوں کے خلاف ان کا اور مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ کا وجود ہندوستان کی دھرتی پر درئہ عمرؓ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب جماعتی سطح پر قادیانیوں کے احتساب کے لئے حضرت امیر شریعت سید عطاءﷲ شاہ بخاریؒ کی ڈیوٹی لگی۔ آپ نے مجلس احرار اسلام ہند میں مستقل شعبہ تبلیغ قائم کردیا۔ جمعیۃ علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کی پوری قیادت کا ان پر اس سلسلہ میں بھرپور اعتماد تھا۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ایسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی نے سرپرستی سے سرفراز فرمایا۔

قادیان کانفرنس

ﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے مجلس احرار اسلام ہند نے ۲۰،۲۱، ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو قادیان میں کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں ان اکابرین ملت نے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا عنایت علی چشتیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، حضرت مولانا رحمت ﷲ مہاجر مکیؒ وغیر ہ ان سب حضرات نے قادیان میں رہ کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ ﷲ تعالیٰ کے کرم کے فیصلوں کو دیکھئے کہ یہ سب حضرات خانوادئہ دیوبند سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کانفرنس میں علمائے کرام نے ملک کے چپہ چپہ میں قادیانی عقائد و عزائم کی قلعی کھولنے کی ایک لہر پیدا کردی۔

قادیان سے ربوہ تک

مختصر یہ کہ ان اکابر کی قیادت میں امیر شریعت مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ اور ’’مجلس احرار اسلام‘‘ کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعے انگریز اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت کے خرمن خبیثہ کو پھونک ڈالا۔ تاآنکہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا تو برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہوگیا اور قادیان کی منحوس بستی دارالکفر اور دارالحرب ہندوستان کے حصہ میں آئی۔ قادیانی خلیفہ اپنی ’’ارض حرم‘‘ اور ’’مکۃ المسیح‘‘ (قادیان) سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور پاکستان میںربوہ (اب چناب نگر) کے نام سے نیا دارالکفر تعمیر کرنے کے بعد شاہوار نبوت کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔

قیام پاکستان کے بعدقادیانیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب ان کے قبضے میں ہیں۔ پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر ﷲ خان خلیفہ قادیان (حال ربوہ) کا ادنیٰ مرید ہے۔ اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ’’احرار اسلام‘‘ کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے بکھر چکا تھا۔ تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور پھر ’’احراراسلام‘‘ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ اس لئے قادیانیوں کو غرہ تھا کہ اب حریم نبوت کی پاسبانی کے فرائض انجام دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی۔ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حفاظت دین اور ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کا کام انسان نہیں کرتے خدا کرتا ہے اور وہ اس کام کے لئے خود ہی رجال کار بھی پیدا فرمادیتا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت

امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء قادیانیوں کے عزائم سے بے خبرنہیں تھے۔ چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ’’مسجد سراجاں‘‘ (۱۹۴۹عیسوی) میں ایک مجلس مشاورت ہوئی۔ جس میں امیر شریعت ؒ کے علاوہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ‘ مولانا عبدالرحمن میانویؒ‘ مولانا تاج محمودؒ اور مولانا محمد شریف جالندھری ؒ شریک ہوئے۔ غوروفکر کے بعد ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا ابتدائی میزانیہ ایک روپیہ یومیہ تجویز کیا گیا۔ چنانچہ صدرالمبلغین کی حیثیت سے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو‘ جو قادیان میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے صدر تھے۔ ملتان طلب کیا گیا۔ ان دنوں مسجد سراجاں ملتان کا چھوٹا سا حجرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر تھا۔ وہی دارالمبلغین تھا۔ وہی دارالاقامہ تھا۔وہی مشاورت گاہ تھی اور یہی چھوٹی سی مسجد اس عالمی تحریک ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ابتدائی کنٹرول آفس تھا۔ شہید اسلام حضرت زیدؓ کے بقول: ’’وذلک فی ذات الالہ وان یشاء یبارک علی اوصال شلو ممزع‘‘حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نحیف و ضعیف تحریک میں ایسی برکت ڈالی کہ آج اس کی شاخیں اقطار عالم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا مجموعی میزانیہ لاکھوں سے متجاوز ہے۔

قیادت باسعادت

’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اکابر اولیاء ﷲ کی قیادت و سرپرستی اور دعائیں اسے حاصل رہی ہیں۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ آخری دم تک اس تحریک کے قائد و سرپرست رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ‘ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ‘ حضرت مولانا عبدﷲ درخواستیؒ اور حضرت مولانا خان محمدصاحبؒ خانقاہ سراجیہ کندیاں۔ اس کے سرپرست ہیں ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے بانی اور امیر اول امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ تھے۔ امیر شریعتؒ کی وفات ۱۹۶۱ء میں ہوئی۔ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو امارت سپرد کی گئی۔ ان کے وصال کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ امیر مجلس ہوئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد عارضی طور پر فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو مسند امارت تفویض ہوئی۔ مگر اپنے ضعف و عوارض کی بناء پر انہوں نےاس گراں باری سے معذرت کا اظہار فرمایا۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان تحریک کی پیش قدمی رک جانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظت دین یکایک ایک ایسی ہستی کو اس منصب عالی کے لئے کھینچ لایا جو اپنے اسلاف کے علوم و روایات کی امین تھی اور جس پر ملت اسلامیہ کو بجاطور پر فخر حاصل تھا۔ میری مراد شیخ الاسلام حضرت العلامہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے ہے۔
تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت‘ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی وراثت وامانت تھی اور اس کا اہل علوم انوری کے وارث حضرت شیخ بنوری سے بہتر اور کون ہوسکتا تھا؟ چنانچہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی خطابت‘ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نورﷲ مرقدہ کی ذہانت‘ مناظراسلام مولانا لال حسین اختر ؒ کی رفاقت‘ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی بلندئ عزم نے نہ صرف مجلس تحفظ ختم نبوت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگادیئے۔ بلکہ ان حضرات کی قیادت نے قصر قادیانی پر اتنی ضرب کاری لگائی کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر کذب وافتراء کی آئینی مہر لگ گئی۔

غیر سیاسی جماعت

’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا مقصد تاسیس‘ عقیدئہ ختم نبوت کی حفاظت اور امت مسلمہ کو قادیانی الحاد سے بچانا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ جماعت خارزار سیاست میں الجھ کر نہ رہ جائے۔ چنانچہ جماعت کے دستور میں تصریح کردی گئی کہ جماعت کے ذمہ دار ارکان سیاسی معرکوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ کیونکہ سیاسی میدان میں کام کرنے کے لئے دوسرے حضرات موجود ہیں۔ اس لئے ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا دائرہ عمل دعوت و ارشاد‘ اصلاح و تبلیغ اور رد قادیانیت تک محدود رہے گا۔ اس فیصلے سے دو فائدے مقصود تھے۔ ایک یہ کہ: ’’جماعت تحفظ ختم نبوت‘‘ کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کا اجتماعی پلیٹ فارم رہے گا اور عقیدئہ ختم نبوت کا جذبہ اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق اور ان کے باہمی ربط تعلق کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔‘‘ دوم یہ کہ: ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ارباب اقتدار سے یا کسی اور سیاسی جماعت سے تصادم نہیں ہوگا۔ اور امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدئہ ختم نبوت اطفال سیاست کا کھلونا بننے سے محفوظ رہے گا۔‘‘

امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کو قدرت نے قادیانیت کے خلاف سراپا تحریک بنا دیا تھا۔ آپ نے اپنے شاگردوں کی ایک مستقل جماعت کو قادیانیت کے خلاف تحریری و تقریری میدان میں لگایا تھا۔ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، مولانا غلام ﷲ خانؒ ایسے جید علمائے امت جنہوں نے قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ یہ سب حضرت کشمیریؒ کے شاگرد تھے۔ دارالعلوم دیوبند کی مسند ِ حدیث پر بیٹھ کر اسمردِ قلندر نے اس فتنہ عمیاء قادیانیت کے خلاف محاذ قائم کیا۔ جسے دیانت دار مورخ سنہرے حروف سے لکھنے پر مجبور ہے۔

پاکستان اور قادیانیت

۱۹۴۷ء میں پاکستان بنا۔ قادیانی جماعت کا لاٹ پادری مرزا محمود قادیان چھوڑ کر پاکستان آگیا۔ پنجاب کے پہلے انگریز گورنر موڈی کے حکم پر چنیوٹ کے قریب ان کو لب دریا ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین عطیہ کے طور پر الاٹ کی گئی۔ فی مرلہ ایک آنہ کے حساب سے صرف رجسٹری کے کل اخراجات 10,034/-روپے وصول کئے۔ قادیانیوں نے بلاشرکت غیرے وہاں پر اپنی اسٹیٹ ’’مرزائیل‘‘ کی اسرائیل کی طرز پر بنیاد رکھی۔ ظفرﷲ قادیانی پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنا۔ اس نے سرکاری خزانہ سے آب و دانہ کھا کر قادیانیت کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ انگریز خود چلا گیا۔ مگر جاتے ہوئے اسلامیان برصغیر کے لئے اپنی لے پالک اولاد قادیانیت کے لئے ایک مضبوط بیس مہیا کرگیا۔ قادیانی علی الاعلان اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔ ان پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ قادیانیوں کی تعلّی اور لن ترانیاں دیکھ کر اسلامیان پاکستان کا ہردرد رکھنے والا شخص اس صورت سے پریشان تھا۔ قادیانی منہ زور گھوڑے کی طرح ہوا پر سوار تھے۔ ملک میں جداگانہ طرز انتخاب پر الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن قادیانیوں کو مسلمانوں کا حصہ شمار کیا گیا۔ چنانچہ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت امیر شریعت سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ نے شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو بریلوی مکتبہ فکر کے رہنما مولانا ابوالحسنات قادریؒ کے ہاں بھیجا۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ، شیعہ مکاتب فکر اکٹھے ہوئے اور قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ جسے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کہا جاتا ہے۔ اس تحریک میں مرکزی کردار ابنائے دارالعلوم دیوبند کا تھا۔ اس تحریک نے قادیانیوں کے منہ زور گھوڑے کو لنگڑا کردیا۔ ظفر ﷲ قادیانی ملعون اپنی وزارت سے آنجہانی ہوگیا۔ قادیانیت کی اس تڑاخ سے ہڈیاں ٹوٹیں کہ وہ زمین پر رینگنے لگی۔ عقیدئہ ختم نبوت کی ان عظیم خدمات پر دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔قبل ازیں ۱۹۴۹ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے جس پلیٹ فارم کا اعلان ہوا تھا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد اسے مستقل جماعت کے طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے منظم کیا گیا جبکہ سیاسی و مذہبی طور پر اسلامیان پاکستان کی رہنمائی اور اسلامی نظام کے نفاذ اور اشاعت دین کے لئے ’’جمعیت علمائے اسلام پاکستان‘‘ کی تشکیل کی گئی۔ یہ سب ابنائے دارالعلوم کا کارنامہ ہے۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے ایوبی دور میں مغربی پاکستان اسمبلی میں شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کے لئے جو خدمات انجام دیں۔ وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ غرض مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قادیانیت کا احتساب کیا گیا ’’مغربی آقائوں‘‘ کے اشارے پر قادیانی ’’فوج‘‘ و دیگر سرکاری دوائر میں سرگرم عمل تھے۔ علمائے کرام کی مستقل جماعت مولانا احمد علی لاہوریؒ مولانا سید عطاء ﷲ شاہ بخاریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا قاضی احسان احمدشجاع آبادیؒ، مولانا گل بادشاہؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالقیومؒ، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا محمد عبدﷲ درخواستی ؒ اور ان کے ہزاروں شاگرد لاکھوں متوسلین کروڑوں متعلقین نے جو خدمات سرانجام دیں۔ وہ سب دارالعلوم کا فیضان نظر ہے۔ سب اسماء گرامی کا استحضار و احصاء ممکن نہیں۔ وہ سب حضرات جنہوں نے اس سلسلہ میں خدمات سرانجام دیں۔ وہہمارے ان الفاظ کے لکھنے کے محتاج نہیں۔ وہ یقینا رب کریم کے حضور اپنے حسنات کا اجر پاچکے ۔(فنعم اجر العاملین)

قرارداد رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ

رابطہ عالم اسلامی کا سالانہ اجتماع اپریل ۱۹۷۴ء میں منعقد ہوا۔ مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دوسرے اکابرین دیوبند اس اجتماع میں نہ صرف موجود تھے۔ بلکہ اس قرار داد کو پاس کرانے کے داعی تھے۔ رابطہ عالم اسلامی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی جو دور رس نتائج کی حامل ہے۔ اس سے پوری دنیا کے علمائے اسلام کا قادیانیت کے کفر پر اجماع منعقد ہوگیا۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء

ﷲ رب العزت کے فضل و احسان کے بموجب ۱۹۷۰ء میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مثالی جدوجہد سے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ ،شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا صدر الشہیدؒ اور دیگر حضرات قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم برسر اقتدار آئے۔ قادیانیوں نے ۱۹۷۰ء میں پیپلز پارٹی کی دامے درمے اور افرادی مدد کی تھی۔ قادیانیوں نے پھر پرپرزے نکالے۔ ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے نتیجہ میں تحریک چلی۔ اسلامیان پاکستان ایک پلیٹ فارم ’’مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ پر جمع ہوئے جس کی قیادت دارالعلوم دیوبند کے مرد جلیل، محدث کبیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے فرمائی اور قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی نمائندگی کا شرف حق تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند کے عظیم سپوت مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ یوں قادیانی قانونی طور پر اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کہاں قادیانی اقتدار کا خواب اور کہاں چوہڑوں، چماروں میں ان کا شمار۔ اس پوری جدوجہد میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان کی خدمات ﷲ رب العزت کے فضل و کرم کا اظہار ہے۔ غرض دارالعلوم دیوبند کے سرپرست اول حاجی امداد ﷲ مہاجر مکیؒ کی ’’الف‘‘ سے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک شروع ہوئی۔ وہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی ’’یاء‘‘ پر کامیابی سے سرفراز ہوئی۔

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے متعلق جو کارروائی ہوئی وہ سب قومی ’’تاریخی دستاویز‘‘ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کردی ہے۔ قومی اسمبلی میں دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتگان ہمارے اکابر نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں قادیانیوں کو جس طرح چاروں شانے چت کیا۔ یہ دستاویز اس پر ’’شاہد عدل‘‘ ہے۔ قادیانیوں نے اسمبلی میں ایک محضر نامہ پیش کیا تھا۔ جس کا جواب مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی نگرانی میں مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے لکھا۔ حوالہ جات مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے فراہم کئے اور قومی اسمبلی میں اسے مفکر اسلام قائد جمعیت مولانا مفتی محمودؒ نے پڑھا۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق برسراقتدار آئے۔ ان کے زمانہ میں پھر قادیانیوں نے پر پرزے نکالے۔ ایک بار ووٹنگ لسٹوں کے حلف نامہ میں تبدیلی کی گئی۔ اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھریؒ بھاگم بھاگ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کے پاس راولپنڈی پہنچے۔ حضرت مفتی صاحبؒ ملٹری ہسپتال میں پائوں کے زخم کے علاج کے سلسلہ میں زیر علاج تھے۔ اسحالت میں حضرت مفتی صاحبؒ نے جنرل ضیاء الحق کو فون کیا۔ آپ کی للکار سے اقتدار کا نشہ ہرن ہوا اور وہ غلطی درست کردی گئی۔ وہ غلطی نہ تھی۔ بلکہ حقیقت میں قادیانیوں سے متعلق قانون کو نرم کرنے کی پہلی چال تھی۔ جسے دارالعلوم دیوبند کے ایک فرزند کی للکار حق نے ناکام بنادیا۔ ۱۹۸۲ء میں جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں پرانے قوانین کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا (جو قانون کہ اپنا مقصد حاصل کرچکے ہوںان کو نکال دیا جائے) اس موقع پر ابہام پیدا ہوگیا کہ قادیانیوں سے متعلق ترمیم بھی منسوخ ہوگئی ہے۔ اس پر ملک کے وکلاء کی رائے لی گئی۔ اڑھائی سو وکلاء کے دستخطوں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے روزنامہ جنگ میں اشتہار شائع کرایا۔ مولانا قاری سعیدالرحمن مہتمم جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ صدر راولپنڈی، مولانا سمیع الحق صاحب مہتمم جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک جنرل صاحب کو ملے۔ ان کی کابینہ میں محترم جناب راجہ ظفرالحق وفاقی وزیر تھے۔ ان کے مشورہ سے جنرل صاحب نے ایک آرڈی نینس منظور کیا اور قادیانیوں سے متعلق ترمیم کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا تھا۔ وہ دور ہوا اور اسلامیان پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس آرڈی نینس کو اس وقت بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء

جناب بھٹو کے زمانہ میں پاس شدہ آئینی ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں قادیانی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ ترمیم منسوخ ہوجائے۔ اس کے لئے وہ اندرون خانہ سازشوں میں مصروف تھے۔ قادیانی سازشوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے مسلمانوں کے رد عمل نے تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کی شکل اختیار کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ ﷲ کو پیارے ہوچکے تھے۔ اب اس نئی آزمائش میں دارالعلوم دیوبند کے زعماء خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، مولانا مفتی احمد الرحمنؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا عبیداﷲ انورؒ، پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیرشریفؒ، مولانا محمد مراد ہالیجویؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا میاں سراج احمد دینپوری، مولانا سید محمد شاہ امروٹیؒ، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا منیر الدینؒ کوئٹہ، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا حبیب اﷲ مختارشہیدؒ، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا ضیاء القاسمیؒ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا سید امیر حسین گیلانیؒ، ایسے ہزاروں علمائے حق نے تحریک کی قیادت کی اور اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے متعلق پھر قانون سازی کے اس خلاء کو پر کرنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈی نینس منظور ہوا۔
یہ آرڈی نینس اس وقت قانون کا حصہ ہے۔ اس سے یہ فوائد حاصل ہوئے:

۱… قادیانی اپنی جماعت کے چیف گرو یا لاٹ پادری کو امیر المومنین نہیں کہہ سکتے۔

۲… قادیانی اپنی جماعت کے سربراہ کو خلیفۃ المؤمنین یا خلیفۃ المسلمین نہیں کہہ سکتے۔

۳… مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی مرید کو معاذﷲ ’’صحابی‘‘ نہیں کہہ سکتے۔

۴… مرزا قادیانی کے کسی مرید کے لئے ’’رضی ﷲ عنہ‘‘ نہیں لکھ سکتے۔

۵… مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے ’’ام المؤمنین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے۔

۶… قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔

۷… قادیانی اذان نہیں دے سکتے۔

۸… قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

۹… قادیانی اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے۔

۱۰… قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔

۱۱… قادیانی اپنے مذہب کی دعوت نہیں دے سکتے۔

۱۲… قادیانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کرسکتے۔

۱۳… قادیانی کسی بھی طرح اپنے آپ کو مسلمان شمار نہیں کرسکتے۔

۱۴ … غرض کہ کوئی بھی شعائر اسلام استعمال نہیں کرسکتے۔

بحمدہٖ تعالیٰ اس قانون کے منظور ہونے سے قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ جسے وہ ظلّی حج قرار دیتے تھے۔ پاکستان میں اس پر پابندی لگی۔ قادیانی جماعت کے چیف گرو، لاٹ پادری مرزا طاہر کو ملک چھوڑ کر لندن جانا پڑا۔ اس تمام تر کامیابی و کامرانی کے لئے ’’ابنائے دارالعلوم دیوبند‘‘ نے جو خدمات سرانجام دیں ان کو کوئی منصف مزاج نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ والا قصہ ہوگیا۔

مقدمات

۱… قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کو چیلنج کردیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حکم پر کیس کی تیاری اور پیروی کے لئے شہید مظلوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ پر مشتمل جماعت نے لاہور ڈیرے لگادیئے۔ ملتان عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ سے بیسیوں بکس کتب کے بھر کے لاہور لائے گئے۔ فوٹو اسٹیٹ مشین کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کی لائبریری اس کیس کی پیروی کے لئے جامعہ کے حضرات نے وقف کردی۔ ۱۵؍ جولائی سے ۱۲؍ اگست ۱۹۸۴ء تک اس کی سماعت جاری رہی۔ حضرت امیر مرکزیہؒ اور خانقاہ رائے پور کی روایات کے امین حضرت اقدس سید نفیس الحسینیؒ اور مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود بھی تشریف لاتے رہے۔ لاہور کی تمام جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا اور بالکل بہاولپور کے مقدمہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ﷲ رب العزت نے اپنے فضل و کرم سے نہایت ہی کرم کا معاملہ فرمایا۔ ۱۲؍ اگست ۱۹۸۴ء کو جب فیصلہ آیا تو قادیانیوں کی رٹ خارج کردی گئی۔ کفر ہار گیا۔ اسلام جیت گیا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس فخر عالم نے تحریر کیا۔

۲… قادیانیوں نے اس فیصلہ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کی اپیل بینچ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ﷲ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ۱۲؍ جنوری ۱۹۸۸ء سپریم کورٹ اپیل بینچ نے اس اپیل کو بھی مسترد کردیا۔ اسی طرح قادیانیوں نے لاہور، کوئٹہ، کراچی ہائی کورٹس میں کیس دائر کئے۔ تمام جگہ ان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قادیانی ان تمام مقدمات کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے کر گئے۔ حق تعالیٰ شانہ نے یہاں بھی فیض یافتگان دارالعلوم دیوبند کو توفیق بخشی۔ اس کی پیروی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسفلدھیانوی شہیدؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا علامہ احمد میاں حمادی، شہید اسلام مولانا محمد عبدﷲؒ، قاری محمد امینؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ، شیخ القرآن مولانا غلام ﷲ خانؒ کے جانشین مولانا قاضی احسان احمدؒ، مولانا عبدالرؤفؒ اور اسلام آباد ، راولپنڈی کے تمام ائمہ و خطباء نے ایمانی جرأت و دینی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ یوں ۳؍ جنوری ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔

بحمدہٖ تعالیٰ ان تمام فیصلہ جات پر مشتمل کتاب ’’قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے‘‘ شائع شدہ ہے۔ جس میں دیگر تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

۳… اسی طرح قادیانیوں نے جوہانسبرگ افریقہ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے اس کی پیروی کے لئے وہاں کے سفر کئے۔ یہ فیصلہ بھی قادیانیوں کے خلاف ہوا۔

بیرون ممالک

امتناع قادیانیت قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانی جماعت کے بھگوڑے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا۔ ابنائے دارالعلوم دیوبند وہاں بھی پہنچے۔ سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۱۹۸۵ء سے ہر سال تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتی رہی ہے۔ پاکستان ، ہندوستان، عرب، افریقہ و یورپ سے علمائے کرام اور ابنائے و فضلائے دارالعلوم دیوبند تشریف لاکر اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں مستقل طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا مستقل دفتر قائم کردیا ہے۔ جہاں سے ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جارہا ہے۔ امریکہ، افریقہ، یورپ کے کئی ممالک ایسے ہیں۔ جہاں مستقل بنیادوں پر قادیانیت کے خلاف کام ہورہا ہے اور وہ تمام ترکام بحمدہٖ تعالیٰ ابناء دارالعلوم دیوبند سرانجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کے علاوہ تربیتی کورسز کا سلسلہ شروع ہے۔ کتب، لٹریچر کی اشاعت و تقسیم ہورہی ہے اور اس کام کے لئے دارالعلوم دیوبند میں ہی ’’کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ قائم کردی گئی ہے۔

آثار و نتائج

اکابر دیوبند کی مساعی اور ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مقاصد و خدمات کا مختصر ساخاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے جو جماعت کی جہد مسلسل اور امت اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے:

اوّل… پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ علاوہ ازیں قریباً تیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر‘ مرتد‘ دائرہ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

دوم…ختم نبوت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر و نفاق واضح ہوگیا۔ اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بدترین کفر سے واقف ہوگئے۔
سوم… بہاولپور سے ماریشس جوہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے فیصلے دیئے۔
چہارم… مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کوقادیانیوں کے غلبہ اور تسلط سے محفوظ کردیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔
پنجم… بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے تھے۔ جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔
ششم… ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا۔ چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے۔ اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے۔ اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہوجاتے تھے۔ اب بھی اگرچہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے۔ مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کمتری ختم ہورہا ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہورہے ہیں کہ قادیانیوں کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی اور ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔
ہفتم… قیام پاکستان سے ۱۹۷۴ء تک ’’ربوہ‘‘ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا۔ وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی‘ حتی کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی۔ لیکن اب ’’ربوہ‘‘ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے۔ وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ ۱۹۷۵ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس و مساجد دفتر و لائبریری قائم ہیں۔
ہشتم…قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے‘ لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔

نہم… پاسپورٹ‘ شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔

دھم… پاکستان میں ختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا تعزیری جرم قرار دیا جاچکا ہے۔

یازدھم… سعودی عرب‘ لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں ’’عالم کفر کے جاسوس‘‘ قرار دیا جاچکا ہے۔

دوازدھم… مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی‘ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

سیزدھم… قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ: پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دارالخلافہ ’’ربوہ‘‘ ہے۔ وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہوچکے ہیں‘ بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ حتی کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔ ربوہ کانام مٹ کر اب ’’چناب نگر‘‘ ہے۔ آج قادیانی شہر کا نام مٹا ہے تو وہ وقت آیا چاہتا ہے جب قادیانیت کا نشان بھی مٹے گا۔ انشاء ﷲ العزیز!

نوٹ: موضوع کی مناسبت کے پیش نظر صرف علمائے دیوبند کی خدمات دربارہ تحفظ ختم نبوت کا تذکرہ کیا ہے ورنہ تمام علمائے کرام چاہے وہ بریلوی ہوں یا اہلحدیث‘ یا شیعہ حضرات‘ سب اس محاذ پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہے۔ سب نے اس محاذ پر گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شائع کردہ کتاب ’’تحریک ختم نبوت۱۹۵۳عیسوی‘‘ ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴عیسوی‘‘ (تین جلدیں) ان میں تمام مکاتب فکر کے اکابر کی سنہری خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔
(کتاب: آئینہ قادیانیت)

اپنا تبصرہ بھیجیں