Asghar Khan Case Realities 64

اصغر خان کیس سے متعلق اہم حقائق جو شاہد آپ نہیں جانتے

آج کل یہ موضوع بحث ہے کہ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کر دی جس پر عدالت نے اصغر خان کے قانونی ورثا کو نوٹس جاری کر دئیے۔اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، جس سلسلے میں ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے، دورانِ سماعت سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے وکیل نے کہا کہ معاملہ 24 سال پرانا ہے، تمام سیاستدانوں نے رقوم لینے سے انکار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے نے توکہہ دیا کہ کوئی شہادت ہی نہیں ہے، ڈی جی ایف آئی اے نے موقف اپنایا کہ تمام بیانات میں گیپس ہیں، عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ ایئر مارشل اصغر خان سے متعلق ہے جو کافی عرصہ سرد خانے میں رہا، سپریم کورٹ نے معاملے کو دوبارہ اٹھایا، ایف آئی اے نے سویلین کی حد تک کیس کی تفتیش کی جس سے ثابت ہوا کہ پیسہ تقسیم ہوا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے فائنل رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا کہ اس کے پاس کوئی شہادت نہیں اور معاملہ ختم کرنے کی سفارش کی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ عدالت کو بتائیں اس معاملے پر مزید کیا کیا جائے؟ جس کے بعدعدالت نے اصغر خان کے قانونی ورثا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔ اس کیس میں جو عوام کو حیرت ہوئی وہ یہ نہیں تھی کہ ایف آئی اے اس کیس سے جان چھڑانا چاہ رہی ہے بلکہ حیرت یہ ہے کہ کیا حکومت بھی اس مسئلے کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے؟ کیوں کہ اس کیس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اس سے جڑے ہر الیکشن کی شفافیت پر داغ لگ رہا ہے۔ اور یہ وہی کیس ہے جس میں 1990ءکی دہائی میںبے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کی تشکیل کے لیے فوج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس مقدمے کا مختصر فیصلہ 19 اکتوبر 2012ءکو سنایا تھا۔ اِس فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اُس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم مرزا بیگ اور سابق سربراہ (آئی ایس آئی )اسد درانی کا انفرادی فعل تھا۔ اپنے مختصر فیصلے میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ 1990ءکے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں۔

اس کیس کے مطابق غلام مصطفی جتوئی نے 50 لاکھ روپے، سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی نے50 لاکھ روپے، سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے 25 لاکھ روپے، عبدالحفیظ پیرزادہ نے30 لاکھ روپے، صبغت اللہ پیر پگارا نے 20 لاکھ روپے، مظفر حسین شاہ نے6 لاکھ، غلام علی نظامانی نے 3 لاکھ، سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے 2 لاکھ ، ہفت روزہ تکبیر کے چیف ایڈیٹر صلاح الدین نے 3 لاکھ ، یوسف ہارون نے 5 لاکھ روپے وصول کیے اور بقیہ رقوم جو کسی تیسرے شخص کے ہاتھوں تقسیم ہوئی اُن کے مطابق جام صادق علی نے سات کروڑ روپے، بانی ایم کیو ایم نے2 کروڑ روپے، جاوید ہاشمی کے علاوہ دیگر ارکان قومی اسمبلی نے 5 کروڑ روپے اور میاں نواز شریف نے 60 لاکھ روپے (مختلف ادوار میں)وصول کیے۔ یہ تو جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کی مہربانی ہے کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ اُس وقت کے انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے اور پی پی پی کو ہرانے کے لیے (ان کے موقف کے مطابق) مختلف سیاسی رہنماﺅں اور سیاسی جماعتوں کو پیسہ دیا گیا۔ ورنہ تو یہاں پاکستان میں یہ روایت بن گئی ہے کہ قومی مجرم بھی اپنے آپ کو اس ملک کا قائداعظم ثانی کہتا ہے اور تصور کرتا ہے کہ جیل، حوالات تو دور یہ تفتیشی ادارے بھی اس کے گھر کی جاگیر ہیں۔

خیر 1990ءکے بعد ہونے والے الیکشنز کے حوالے سے جو عام فہم تاثر پایا جاتا ہے وہ اُس سے کافی سنگین اور کہیں زیادہ ہے، جس کا ہم اصغر خان کیس میں رونا روتے ہیں۔ 1990ءکے انتخابات میں اگر یہ کام ہوا تو کچھ چھپ چھپا کے ہوتا رہا مگر بعد میں جس طرح کی خبریں ملتی رہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ مثلاََ 1997ءکے الیکشن کو فکس قرار دیا گیا،2001ءکے الیکشن تو ہوئے ہی ڈکٹیٹر شپ کی چھتری تلے، پھر 2008ءکے الیکشن کے بارے میں مشرف نے کہا کے وہ فکس تھے۔ اور 2013ءکے الیکشن کے بارے میں بھی کہا جا تا ہے کہ وہ فکس تھے۔ اور پھر تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو علم ہوگا کہ 1988ءکے انتخابات سے پہلے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل نے بھٹو مخالت سیاسی جماعتوں پر مشتمل آئی جے آئی کے نام سے انتخابی اتحاد تشکیل دیا تھا جس کا مقصد پی پی پی کا راستہ روکنا تھا۔ فوج کے جرنیل خوف زدہ تھے کہ پی پی پی اقتدار میں آکر بھٹو شہید کی پھانسی کا انتقام نہ لے۔ سازشوں کے باوجود پی پی پی نے93 نشستیں حاصل کرلیں جبکہ آئی جے آئی کو 54نشستیں مل گئیں۔
خبر پڑھیں:جنگی جرائم سے متعلق انجیلامرکل نے ایسا انکشاف کردیا کہ دنیا حیران رہ گئی
اب جب کہ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغر خان عمل درآمد کیس کی فائل بند کرنے کی سفارش کردی ہے۔ لیکن اس کے برعکس میرے خیال میں حکومت اس حوالے سے متعلقہ ذمہ داران کو سزا دے کر دنیا بھر میں یہ تاثر ضرور قائم کر سکتی تھی کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے، پاکستان کو اس حوالے سے خاصی پذیرائی ملتی۔ لہٰذا اب اس کیس کے ممکنہ طور بند ہونے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف پر اسی کیس کو بنیاد بنا کر ختم نہیں کیا جا سکے گا کہ اُس کے پاس بھی40 سالہ پرانا رقوم کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ نہیں ہے،کیوں کہ میری ناقص اطلاعات کے مطابق اس کیس کے ختم ہونے سے نوازشریف پر کیسز کا بوجھ کم ہوگا جو پہلے ہی اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ 2018ءکے الیکشن کے بعد توقع تھی کہ عمران خان اصغر خان کیس میں عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے لیکن اُن کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والے ادارے ایف آئی اے نے اصغر خان کیس کو بند کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
اصغر خان کیس سے متعلقہ ریکارڈ محض 25سال پرانا ہے۔ اگر ایف آئی اے کو 25سال پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں اور وہ اس کیس کی تحقیقات کرنے سے قاصر ہے تو پھر نواز شریف کے خلاف ایک 32 سال پرانے پاکپتن اراضی کیس کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کیسے بنا دی گئی اور یہ ٹیم ثبوت کہاں سے لے آئے گی؟ اگر یہ ٹیم نواز شریف کے خلاف کہیں سے کوئی ثبوت لے آئی تو بادی النظر میں لوگ یہ کہتے نظر آئیں گے کہ اصغر خان کیس میں آپ کو 25 سال پرانا ریکارڈ نہیں ملا لیکن پاکپتن اراضی کیس میں32 سال پرانا ریکارڈ مل گیا کیونکہ آپ اس کیس میں کسی کو بچانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں حکومت کو اس کیس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لینا چاہیے۔اور ایسا تاثر بالکل نہیں دینا چاہیے کہ یہ نظام تو صرف کمزور استادوں اور سیاستدانوں پر گرجتا برستا ہے۔ بہرحال یہ ایک سنہری موقع تھا جسے اگرگنوا دیا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور ہم نے نئے پاکستان کی بنیاد بھی اسی لحاظ سے رکھی تھی ایسا پاکستان ہوناچاہیے جس میں آئین و قانون سب کے لئے برابر ہو، نئے پاکستان میں اگر اداروں کو نواز شریف، زرداری اور سینکڑوں دیگر لوگوں کے لیے ثبوت مل سکتے ہیں تو اصغر خان کیس کے حوالے سے بھی بہت کچھ مل سکتا ہے۔ لہٰذااس کیس کے ختم کرنے سے بہت سے اُلٹے سیدھے تاثر قائم کیے جا رہے ہیں، اگر یہی سب کچھ عوام نے دیکھنا تھا تو یقینا اس کے لیے نئے اور پرانے پاکستان میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کیس کا تعلق چونکہ براہ راست عوام سے یا عوامی سیاستدانوں سے ہے لہٰذاعوام منتظر رہیں گے کہ یہ کیس کسی صورت بند نہ ہو اور اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچے، اسی میں ہم سب کی بقاءہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں