اللہ تعالی کے فضل و عنایت اور رحم و کرم کا موسم بہار رمضان المبارک نیکیوں کے لوٹ مار کا مہینہ ہے۔ 211

اللہ تعالی کے فضل و عنایت اور رحم و کرم کا موسم بہار رمضان المبارک نیکیوں کے لوٹ مار کا مہینہ ہے۔

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا یے۔ اس مہینہ کیلئے جنت کو مزید سجایا جاتا ہے۔ اس مہینہ میں عرش کے نیچے رحمت کی ہوائیں چلنے کو تیار ہو جاتی ہیں۔ کچھ ہی دنوں میں جنت کے درختوں کے پتوں سے سریلی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ حور عین بھی دست بدعا ہو کر عرض کرتی ہے۔ اے باری تعالی! اس مہینہ میں ہمیں تیرے وہ خوش نصیب بندے چاہیئے جن سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک ملے اور انکی آنکھوں کو ہماری وجہ سے سرور ملے۔

صحیح ابن خزیمہ میں باب فضائل شھر رمضان کی حدیث نمبر 1887 حضور نبی پاکﷺ نے فرمایا ہے۔ تم پر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑا اور مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالی نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اسکی رات کے قیام کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔ جو شخض اس مہینہ میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرےگا ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے گا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرائض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیاجاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کیلئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے۔ تو آپﷺ نےارشاد فرمایا کہ(یہ ثواب پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں) بلکہ اگر کوئی بندہ ایک کھجور سے روزہ افطار کرادے یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ لسّی کا پلا دے تو اللہ تعالی اس پر بھی یہ ثواب مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اسکا اوّل حصہ اللہ کی رحمت ہے، درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام اور نوکر کے بوجھ کو ہلکا کر دے تو اللہ تعالی اسکی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت کیا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کیلئے ہیں اور دو چیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور جہنم کی آگ سے پناہ مانگو۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے رب تعالی شانہ (روز قیامت) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائینگے جسکے بعد جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے جن میں سے ایک وہ دروازہ ہے جس کا نام “ریان” رکھا گیا ہے اور اس دروازے سے صرف روزہ داروں ہی کا داخلہ ہو سکے گا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: بنی آدم کے ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے بایں طور کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہوتا ہے اور اللہ تعالی فرماتا ہےکہ مگر روزہ کہ وہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اسکا اجر دونگا(یعنی روزے کی جزاء جو بھی ہے اسے میں ہی جانتا ہوں اور وہ روزہ دار کو میں خود ہی دوں گا اس بارے میں کوئی دوسرا یعنی فرشتہ بھی واسطہ نہیں ہو گا، کیونکہ روزہ دار) اپنی خواہش اور اپنا کھانا صرف میرے ہی لیے چھوڑتا ہے(یعنی وہ میرے حکم کی بجاآوری میری رضاءوخوشنودی کی خاطراور میرے ثواب کی طلب کی خاطر روزہ رکھتا ہے) روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی تو روزہ کھولنے کے وقت ہے اور دوسری خوشی(ثواب ملنے کی وجہ سے) اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت، یاد رکھو روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ لطیف اور پسندیدہ ہے اور روزہ ڈھال ہے(کہ اسکی وجہ سے بندہ دنیا میں شیطان کے شروفریب سے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے)، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہو تو وہ نہ فحش باتیں کرے اور نہ بیہودگی کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے اور اگر کوئی (نادان جاہل) اسے برا کہے یا اس سے لڑنے جھگڑنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیئے کہ یہ کہ دے “میں روزہ دار ہوں”  (بخاری و مسلم)

روزہ دار کو چند کاموں کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیئے۔

سحری کے وقت کے اختتام کے بعد جو آذان ہوتی ہے اس آذان کے دوران کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لہذا سحری کے وقت کے اختتام سے پہلے پہلے کھانے پینے سے رک جانا چاہیئے۔

پورے رمضان کی اکھٹی نیت نہ ہوگی بلکہ ہر روزے کی الگ نیت کرنا ضروری ہے۔ نیت فقط دل کے ارادے کو ہی کہتے ہیں۔ دل میں ہی یہ ارادہ کریں کہ میں کل کے روزہ کی نیت کرتا ہوں۔ یا اگر زبان سے بولے تو بھی صحیح ہے مگر بغیر نیت کے روزہ ادا نہ ہو گا۔

روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنے سے روزہ نہ رہے گا بلکہ اسکی جگہ مسواک کرنی چاہیئے جس سے سنت کی ادائیگی کا ثواب بھی حاصل ہو گا۔

بعض لوگ روزہ کے دوران ٹائم پاس کرنیکی خاطر کوئی ڈرامہ یا فلم دیکھتے ہیں یا گانا سنتے ہیں یا ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ روزہ عبادت کرنے کیلئے ہے۔ روزہ بہت بڑی نیکی ہے اسکی قدر کریں اپنے روزہ کو ان چیزوں کی وجہ سے ضایع نہ کریں۔    (علمائے کرام)

آیئے ہم سب اپنے دلوں میں عبادات کا شوق پیدا کریں اور ہادی بر حق حضرت محمد مصطفیﷺ کی ہدایات اذہان و قلوب میں رچا بسا کرپر عزم ہو جائیں کہ ہم سب نے اس رمضان میں اپنی مغفرت کے تمام اسباب خلوص دل اور خلوص نیت سے اختیار کرنے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں