41

انسانوں جیسے ہونٹ اور دانت والی مچھلی رب کریم کے قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

انٹر نیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ایسی مچھلی کی تصویر جس کے ہونٹ اور دانت انسانوں جیسے ہیں اور یہ مچھلی انسانوں کی طرح ہنستی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مچھلی ملائشیا میں ایک مچھیرے نے پکڑی، جس کی فوٹو دیکھنے والے صافین ششدر رہ گئے کیونکہ ایسی مچھلی پہلے کسی نے نہیں دیکھی تھی۔

ملائشیا میں ایسی عجیب و غریب مچھلیاں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اس مچھلی کو ٹریگر فش کے نام سے جانا جاتا ہے۔

انٹر نیٹ پر صارفین اس مچھلی کی تصویر کو تیزی سے شیئر کرنے لگے حتی کہ ایک گھنٹے میں اس کی فوٹو ہزاروں کی تعداد میں شیئر ہوئی۔

اسی طرح کی انسانوں کی طرح کے دانت رکھنے والی ایک مچھلی انڈونیشیا میں بھی ایک اسکول ٹیچر نے پکڑی تھی جس کو اس نے بعد میں پانی میں دوبارہ چھوڑ دیا۔ امریکہ میں بھی ساحل سمندر پر ایسی ایک مچھلی پہلے مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔

برطانوی ویب سائٹ دی مرر سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ مچھلی ہی کی ایک حقیقی قسم ہے اور یہ دنیا بھر میں مختلف مقامات پر سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ اس کو ٹریگر فش کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مچھلی کے ابھرے ہوئے ہونٹ ہوتے ہیں اور دنیا میں اس کی تقریبا 40 اقسام موجود ہیں جن میں سے اکثر گہرے رنگوں کی ہیں، ان کا مسکن گرم پانی کی گہرائی ہے۔

آسٹریلیا کے یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے بحری حیات کے ماہر ڈیوڈ بوتھ نے کہا ہے کہ اس کے بڑے اور تیز دانت ہوتے ہیں جن کو یہ بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ ڈیوڈ بوتھ کے مطابق یہ مچھلی عظیم حائل شعب (Great Barrier Reef) میں غوطہ لگانے والوں پر اپنے دانتوں سے حملہ کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس کے دانت اگر چہ بڑے ہوتے ہیں لیکن انسانوں کے دانتوں کے جیسے نہیں ہوتے البتہ ان سے ملتے جلتے ہیں۔

نیشنل جیوگرافک کے ماہرین نے اس مچھلی کے بارے میں کہا تھا کہ اس کے نر لڑاکا اور غصیلے ہوتے ہیں اور لڑائی کے دوران اپنے دانتوں کے زریعے سے مدمقابل کو چیر پھاڑ دیتے ہیں۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کرہ ارض پر اب بھی ایسی بہت سی مخلوقات موجود ہیں جن تک ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں