27

بی آر ٹی پشاور کے افتتاح کے بعد ہی شھریوں نے قوانین کی دھجیاں اڑانا شروع کر دیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 13 اگست کو پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کا افتتاح کیا، منصوبے کے افتتاح کے بعد ہی افسوس ناک واقعات رونما ہونے لگے اور شہری غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے لگے، مسافروں کے توڑ پھوڑ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی گئیں، افتتاح کی پہلی رات ہی شہری بی آر ٹی ٹریک کے جنگلوں پر چڑھ چڑھ کر اندر داخل ہوتے رہے، اسی کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے اپنے فرائض کی ادائیگی کے نتیجے میں بعض اوباش قسم کے شہری سیکیورٹی اہلکاروں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کی پٹائی کردی، حتی کہ تصاویر میں سیکیورٹی پر مامور افراد کے پھٹے ہوئے کپڑے واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص بی آر ٹی بس کی چھت پر چڑھ چکا ہے جبکہ بس کی پھٹی ہوئی سیٹوں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہیں، خواتین کے گیٹ پر واضح طور پر women only لکھا ہے لیکن اسی گیٹ کو مرد حضرات استعمال کر رہے ہیں، بس کے اندر بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی الگ الگ جگہیں ہیں، بس کے اندر کھڑے ہونے کے لیے سینٹر کا پورشن ہے جس میں اوپر باقاعدہ ہینڈل لگاۓ گئے ہیں تاکہ کھڑے ہونے والے افراد وہاں کھڑے ہوں لیکن مسافر کہیں بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔

کل ایک بس کام سے گئی، بس چمکنی سے حیات آباد جا رہی تھی لیکن راستے میں بالا حصار کے پاس ہی خراب ہو گئی جس کو کرین کے زریعے واپس چمکنی ڈپو پہنچایا گیا، خراب بس کے بارے میں سی ای او ٹرانس پشاور کا کہنا تھا کہ بس کا ٹائر خراب ہو گیا ہے۔

سی ای او ٹرانس پشاور فیاض خان کے مطابق بی آر ٹی پر توڑ پھوڑ کرنے والوں پر پرچہ کاٹا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک اور بسوں کو نقصان پہنچانے والے ملزمان کو جرمانہ کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔

سیکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کرنے کے نتیجے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق بی آر ٹی پر دو شفٹوں میں 240 پولیس اہلکار ڈیوٹی دیں گے جن کا ساتھ نا خوشگوار حالات میں پیٹرولنگ پولیس بھی دے گی۔

ایک انٹر نیشنل معیار کی آٹومیٹک سروس جس میں سینسر لگے ہوئے ہیں، جگہ جگہ پر بی آر ٹی اسٹیشنز پر سائن بورڈز اور مختلف طریقوں سے مسافروں کی رہنمائی کی گئی ہے، کارڈ کے استعمال سے ہی سسٹم آپریٹ ہوتا ہے، اگر ان کا صحیح استعمال نہیں ہو گا تو ظاہر ہے کہ یہ کام چھوڑ دیں گے کیونکہ ان مشینوں کے آپریٹ ہونے میں ٹائم لگتا ہے اور شہری ایک دوسرے سے آگے بڑھنے پر تلے ہوئے ہیں تو جب ایک کارڈ رکھا جاۓ گا اور وہ بندہ ابھی گزرا نہیں ہوگا اور دوسرا کارڈ اس کے اوپر آ جاۓ گا تو وہ سسٹم کیسے کام کرے گا؟
چونکہ یوم آزادی منانے والے لوگوں نے بھی بی آر ٹی کا رخ کر لیا تھا اس لیے لوگوں کا ہجوم پیدا ہو گیا، اگر عوام اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی تو یہ مشینیں ضرور جواب دے دیں گیں اور اس میں نقصان عوام کا ہی ہو گا کیونکہ یہ مشینیں عوام کے فائدے کے لیے عوام کے پیسوں سے بنی ہیں اور خراب ہونے کے بعد انہی کے پیسوں سے ریپئر ہوں گیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں