جماعت اسلامی کا آئندہ ہفتے خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ 114

جماعت اسلامی کا آئندہ ہفتے خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ

علیحدگی کے بعد حکومت کو کمزور کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے، صوبائی امیر جماعت اسلامی مشتاق احمد خان — فوٹو:فائل
جماعت اسلامی نے آئندہ ہفتے خیبرپختونخوا حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ اختلافات کی وجہ سے نہیں بلکہ اچھی نیت سے کیا ہے کیوں کہ ایم ایم اے کی بحالی کے بعد کے پی کے میں مخلوط حکومت سے علیحدگی وقت کا تقاضا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی علیحدگی کے بعد حکومت کو کمزور کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گی اور علیحدگی کے بعد بھی ہرمشکل گھڑی میں خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ہوں گے۔

یاد رہے کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہے اور جماعت اسلامی کے پاس وزرات بلدیات و خزانہ ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سینیٹ انتخابات کے معاملے پر جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان تعلقات میں تلخی دیکھنے میں آئی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے جماعت اسلامی سے حمایت مانگی اور کہا کہ ’اوپر‘ سے حکم آیا ہے۔

سراج الحق کے اس بیان پر تحریک انصاف کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کی سیاست بھی عجیب ہے، پاناماکیس میں نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ گئی اور سینیٹ میں نوازشریف کی حلیف بن گئی، سراج الحق الزام بھی لگاتے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت سے چمٹے ہوئے بھی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر جماعت اسلامی کو مسائل ہیں تو وہ حکومت سے علیحدہ کیوں نہیں ہوجاتی۔

جماعت اسلامی کا آئندہ ہفتے خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جماعت اسلامی کا آئندہ ہفتے خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ” ایک تبصرہ

  1. مقاله عالی بود. یه نمونه ی جالب از این اسمزها شاید نظر سراج الدین علی خان آرزو(یکی از بزرگترین ادیبان تاریخ زبان فارسی و بزرگترین سبک شناس در میان قدما)درباره ظهوری ترشیزی(یک شاعر درجه سه)باشه که ظهوری رو بزرگترین شاعر تاریخ زبان فارسی میدونه!که به خوبی نشان دهنده ی اینه که متخصصان و خبرگان هم چندان نسبت به این به اصطلاح اسمز ها مقاوم نیستند!(همونطور که در شهرت مسعود فراستی در نقد فیلم میبینیم یا در شهرت امثال ژیژک که یکی از جدید ترین مدهای فلسفیه غربه.)

اپنا تبصرہ بھیجیں