Lahore High Court decision about family pension 63

سرکاری ملازمین کے بیوی، بچے فل پنشن کے حقدار قرار، لاہور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمت کرنے والے سابق ملازمین ( مرحومین ) کے اہل خانہ اور بچوں کو فل پنشن کاحقدار قرار دینے سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس عاصم حفیظ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 13 صفات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلے میں عدالت نے صوبائی سیکرٹری خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کی اپیلیں مسترد کر دیں،حکومت پنجاب کی طرف سے اپیلیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل نے دائر کی تھیں، اپیل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب سرکاری خزانے کے کسٹوڈین ہیں، قانون کے تحت وہ کسی پنشنر کی پنشن روک سکتے یا کٹوتی کر سکتے ہیں، پروفیسرکی بیوہ نے دوہری پنشن وصول کی جس پر 2016 میں اس کو شوہر مرحوم کی دی گئی پنشن روک دی گئی تھی اور قانون کے تحت پنشن سے کٹوتی کا حکم دیا گیا، سنگل بنچ نے حقائق کے برعکس بیوہ کی پنشن بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ درخواست میں سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالتی تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد یا خاتون دوران سروس یا ملازمت کے بعد ریٹائرڈ ہوجائے تو اسکے اہل خانہ فل پنشن کے حقدار ہیں، اگر اہل خانہ میں سے کوئی ملازمت بھی کرتا ہے تو بھی وہ قانون کے تحت پنشن کا حقدار ہے، حکومت یا حکومتی اداروں کو پنشن روکنے یا کٹوتی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، دوران سروس وفات یاریٹائرمنٹ کی صورت میں اسکی اہلیہ فل پنشن کی حق دار ہوگی اور خاتون ملازمہ کے دوران وفات یا ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا شوہر فل پنشن کا حق دارہو گا۔

فیصلے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق ملازمت کرنے والے کی وفات کی صورت میں انکی بیوہ یا بچے، پنشن کے حق دار ہوں گے، وزرات فنانس یا اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو سرکاری خزانے پر کسٹوڈین بن کر فیصلے کرنےاجازت نہ ہوگی.

عدالت نے پروفیسر ایس اے رشید کی بیوہ کی پنشن بند کرنے اور وصول کردہ پنشن سے کٹوتی کے حکومتی اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیوہ کو فوری فل پنشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں