Roza e Rasool saw 39

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت


تحریر:  مولانا ایثار محمد مظہری

 بانی ومھتمم جامعہ فریدیہ اضاخیل بالا ضلع نوشہرہ۔

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
اسلام کے بنیادی عقائد(عقیدہ کے لفظی معنی باندھنے کے ہیں دین اور مذہب سے متعلق وہ نظریات جو انسان اپنے دل میں جما لے اسے عقیدہ کہا جاتا ہے۔) میں سے ایک عقیدہ ختم نبوت بھی ہے عقیدہ ختم نبوت کا آسان الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ نبوت کا جو سلسلہ اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لیے آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا اس سلسلہ کو اللہ تعالی نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرمایا ہے بے شک نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد کوئی نیا پیغمبر دنیا میں نہیں آۓ گا نہ ظلی شکل میں اور نہ ہی بروزی شکل میں اور نہ ہی تشریعی شکل میں۔

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ واضح طور پر اس سے ہوتا ہے کہ اگر کوئی عقیدہ قرآن کی ایک آیت میں بھی آ جائے تو ایک مسلمان کے لیے اس پر ایمان لانا اور اس کو اپنا عقیدہ ماننا ضروری ہوتا ہے لیکن عقیدہ ختم نبوت کو اللہ تبارک وتعالی نے قرآن عظیم الشان میں 100 آیات مبارکہ میں ذکر فرمایا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آحادیث مبارکہ میں سے ایک حدیث میں بھی ایک عقیدہ صحیح طور پر ثابت ہو جاۓ تو مسلمان کا اس پر ایمان لانا ضروری ہے جبکہ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے 210 آحادیث میں یہ عقیدہ ذکر فرمایا ہے۔

عقیدہ ختم نبوت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے 23 سالہ دور نبوت میں 256 یا 257 صحابہ کرام اس عقیدہ کے تحفظ کی خاطر شھید ہوۓ ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی چار سالہ دور نبوت میں ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر مسیلمہ کذاب کے خلاف 1200 صحابہ کرام چار سال میں شھید ہوئے اور ان 1200 صحابہ کرام میں 70 صحابہ کرام وہ تھے جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی جن کو بدری صحابہ کہا جاتا ہے تو 70 بدری صحابہ بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر قربان ہوئے۔

اسلام کے بنیادی عقائد میں سے عقیدہ ختم نبوت بھی ہے مسیلمہ کذاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی آخری ایام میں نبوت کا دعوٰی کیا تھا حالانکہ مسیلمہ کذاب نمازیں بھی پڑھتا تھا روزے بھی رکھتا تھا اور صدقہ بھی کرتا تھا اور زکواۃ بھی دیتا تھا یعنی تقریبا تمام نیک اعمال وہ کرتا تھا لیکن صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری پیغمبر نہیں مانتا تھا اس لیے صحابہ کرام نے اس کے خلاف لشکر بنائے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف لشکر روانہ کیے اور ان لشکروں میں 1200 صحابہ کرام اس عقیدہ کو ثابت کرنے اور اس کے تحفظ کی خاطر شھید ہوئے رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ

بہرحال موجودہ دور میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے سر مبارک سے تاجِ ختم نبوت اتارنے کی کوششیں ہو رہی ہیں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے منصبِ ختم نبوت پر حملے ہو رہے ہیں اور اس اعزاز کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھیننے کی کوششیں جاری ہیں تو ہر مسلمان کی زمہ داری ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور اس عقیدہ پر دوسرے لا علم مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے متحرک رہیں اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت پر سمجھ عطا فرمائے۔ آمین
وآخر دعوای ان الحمد للہ رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں