فیس بک اور ٹوئٹر کا ایرانی اور روسی اکاؤنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن 278

فیس بک اور ٹوئٹر کا ایرانی اور روسی اکاؤنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن

فیس بک اور ٹوئٹر نے ایسے سینکٹروں اکاؤنٹس اور پیجز کو بند کردیا ہے جن کا تعلق ایران اور روس سے تھا اور ان سے امریکہ اور برطانیہ کی سیاست پر اثر انداز ہونے کی مہم چلائی جارہی تھیں۔

ایرانی اکاؤنٹس جنہیں بند کیا گیا ہے، کا ہدف برطانوی اور امریکی صارفین تھے اور ان اکاؤنٹس کے followers کی تعداد دس لاکھ سے بھی زائد تھی۔ ان اکاؤنٹس سے اشتہاری مہم پر ہزاروں ڈالر بھی خرچ کیے گئے تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ا ن اشتہارات کا مقصد مغرب میں ایرانی نقطہ نظر اور اس کی حمایت پیدا کرنا تھا۔
فیس بک نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ اس نے فیس بک اور انسٹا گرام پر ایسے 652 پیجز، اکاؤنٹس اور گروپس معطل کیے ہیں جن کا تعلق ایران کے سرکاری میڈیا سے پایا گیا اور ان تمام میں ایک جیسا منظم غیرقانونی برتاؤ دیکھا گیا۔ فیس بک نے روسی فوج سے تعلق رکھنے والی چند اکاؤنٹس کو بھی معطل کیا ہے۔ دوسری جانب ٹوئٹر نے بھی 284 ایسے اکاؤنٹس کو بند کردیا ہے جن کا تعلق ایران سے پایا گیا ہے۔
حالیہ چند سالوں کے دوران جعلی اکاؤنٹس اور ان سے کی جانے والی کاروائیاں فیس بک کے لیے ایک بڑا درد سر ثابت ہوئی ہیں۔ خصوصاً حکومتوں کی حمایت سے فیس بک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی شرح میں اضافہ پریشان کن ہے۔
فیس بک نے بتایا ہے کہ جن 652 اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا ہے ان کے مجموعی طور پر 1.04 ملین فولوورز تھے اور ان میں سے بعض اکاؤنٹ 2011ء میں بنائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ان اکاؤنٹس نے تقریباً 12 ہزار امریکی ڈالر مالیت کے اشتہارات بھی فیس بک پر چلائے۔ اپنی شناخت چھپانے کے لیے ان اکاؤنٹس نے اشتہارات کے لیے رقم کی ادائیگی امریکی ڈالر، آسٹریلین ڈالر، ترکش لیرا اور بھارتی روپے میں کی۔
ماضی میں یہ اکاؤنٹس مشرق وسطیٰ کی سیاست سے متعلق مواد شیئر کرتے تھے، تاہم حالیہ سالوں میں ان کی توجہ کا مرکز امریکہ اور برطانیہ رہے۔ان اکاؤنٹس سے متعلق فیس بک اور ٹوئٹر کو FireEye نے مطلع کیا تھا۔ فائر آئی کے مطابق یہ اکاؤنٹس سعودی عرب اور اسرائیل کے خلاف اور فلسطین اور ایران کی حمایت میں مواد شیئر کرتے تھے۔
ٹوئٹر نے دو ماہ میں 70 ملین اکاؤنٹس ختم کردیے
ٹوئٹر نے ایک کریک ڈاؤن کے دوران گزشتہ دو ماہ میں اپنے پلیٹ فارم پر موجود 70 ملین سے زیادہ اکاؤنٹس معطل کردیے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مئی اور جون میں معطل کیے گئے اکاؤنٹس کی شرح اکتوبر 2017ء کی مہم کے مقابلے میں دوگنی ہے۔
ٹوئٹر کو سالوں سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے بے ہودہ اور بدزبان صارفین کو لگام دینے میں ناکام رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک بلاگ میں ٹوئٹر نے کہا تھا کہ وہ اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے اور اس کے سسٹمز نے ہر ہفتے 9 اعشاریہ 9 ملین ایسے اکاؤنٹس کا پتہ لگایا جو ممکنہ طور پر اسپیم ہیں اور خودکار طور پر چلتے ہیں۔
ایسے ہی دیگر اقدامات سے سال کی دوسری سہ ماہی میں ٹوئٹر کے صارفین کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے البتہ ٹوئٹر کے ایک ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ کئی اکاؤنٹس ایسے ہیں جو شاذ و نادر ہی ٹوئٹ کرتے ہیں اس لیے متحرک صارفین کی تعداد پر کوئی ڈرامائی اثر نہیں پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں