14

مولانا فضل الرحمان نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر پانچ اگست کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔

کل بروز پیر حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر مشاورت کے لیے قومی مشاورتی کانفرنس کا اعلان کر دیا اس کانفرنس میں حکومت کے اتحادیوں سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بھی شرکت کرنا تھی. حکومت نے اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کر دیے ذرائع کے مطابق قومی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد آج صبح دس بجے اسلام آباد میں ہونا تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں میں سے جمیعت علماۓ اسلام (ف) نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ذرائع کے مطابق حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو اس مشاورتی کانفرنس میں شرکت پر راضی کرنے کے لیے ٹاسک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سپرد کر دیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تو آپس میں بات چیت کے دوران مولانا نے شہباز شریف سے کہا کہ حکومت کشمیر کا کیس لڑنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے حکومت نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے اب مگر مچھ کے آنسو نہ بہاۓ، ایک منٹ کی خاموشی سے کشمیر آزاد ہو جاۓ گا کیا؟

آج ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پانچ اگست کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر ملک بھر میں جمیعت علماۓ اسلام مظاہرے کرے گی اور ریلیاں نکالے گی مولانا نے مزید کہا کہ حکمرانوں کی پالیسیوں اور مصلحت پسندیوں کی وجہ سے کشمیر ہاتھ سے نکل گیا ہے میں نے ان سے کہا تھا کہ فاٹا کا اسٹیٹس تبدیل کرنے سے پہلے وہاں کے باشندوں سے پوچھ لو کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے اور اہل فاٹا سے پوچھے بغیر فاٹا کا اسٹیٹس تبدیل کریں گے تو کشمیر کے حق میں آپ کا رائے شماری کا موقف کمزور ہو جائے گا لیکن جب انہوں نے فاٹا کا اسٹیٹس ان سے پوچھے بغیر تبدیل کیا تو بھارت نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ آرٹیکل 370 کی تبدیلی کے بعد یہاں پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر قوم کے سامنے بظاہر ایسا نقشہ پیش کیا گیا کہ جیسے بہت بڑا غیر معمولی اقدام ہوا ہے اور پاکستان اس پر نوٹس لے رہا ہے تو جب اعلامیے میں ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کا تذکرہ کرکے ان کے اقدام کی مذمت کی گئی تو انہوں نے وہ الفاظ حذف کر دیے۔

مولانا نے کہا کہ سالہا سال سے کشمیری قیادت کہتی آئی ہے کہ اگر دفعہ 370 ختم ہوا تو اس سے ہماری تحریک بری طرح متاثر ہوگی اور اب مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ قومی ایشو پر بیٹھنا چاہیے ہم کہتے ہیں اس قومی ایشو کو تباہ کرنے میں سب سے بڑا کردار انہیں حکمرانوں کا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں