وفاقی حکومت کا پیمرا اور پریس کونسل ختم کرنے کا فیصلہ 95

وفاقی حکومت کا پیمرا اور پریس کونسل ختم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا پیمرا اور پریس کونسل ختم کرنے کا فیصلہ اسلام آباد:(29 اگست 2018)وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیمرااورپریس کونسل کوختم کرنے جبکہ پی ٹی وی نیشنل کو پی ٹی وی سیاست کے نام سے چلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر پارلیمنٹ ،صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کی کارروائی براہ راست دکھائی جائیگی۔تفصیلات کے مطابق سینٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ی کہا ہے کہ اپوزیشن کاسینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ غیرسنجیدہ عمل ہے، اپوزیشن نے بہانہ بناکرواک آؤٹ کیا،دیکھناہے اپوزیشن آگے جاکرکتنی سنجیدگی کامظاہرہ کرتی ہے۔
ویڈیودیکھنے کے لئے پلے کریں

وفاقی وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے پیمرااورپریس کونسل کوختم کرنے کافیصلہ کیاہے، ہم پیمراکوختم کرکے پاکستان میڈیاریگولیرٹی اتھارٹی بنارہے ہیں،جس کے لئے نظرثانی کمیٹی بنائی گئی ہے جو اشتہاروں کے معاملات کو دیکھے گی جبکہ گذشتہ حکومت اشتہاروں پر ہی چل رہی تھی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی نیشنل کو پی ٹی وی سیاست کے نام سے چلانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ٹی وی سیاست پر پارلیمنٹ ،صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کی کارروائی براہ راست دکھائی جائیگی۔وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کے بڑے مسائل کو دیکھ رہی ہے،عمران خان اکثریت نہ ہونے کے باوجودسینیٹ میں آئے،جبکہ نوازشریف بطور وزیراعظم سینیٹ میں قدم نہیں رکھتے تھے۔نون لیگ اور اتحادی جماعتوں کے صدارتی امیدوار فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ جعلی ہے مگر مولانا صاحب صدرمملکت بنناچاہتے ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی پارٹی کتنی سنجیدہ ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا صدارتی الیکشن میں عارف علوی کا پلڑا بھاری ہے، نواز شریف کو عدالت لایا ہی کیوں جاتا ہے، جیل ٹرائل ہونا چاہیئے، جیل میں تمام سہولتیں ہیں، نواز شریف کو عدالت لانے اور لے جانے پر بہت خرچ ہوتا ہے۔گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں بنیادی ایجنڈا پی ٹی ائی کے 100 دن کے پلان کےعملدرآمد کا جائزہ لینا تھا جبکہ نیب کے قانون کو مؤثر بنانے کیلئے ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان ترامیم کیلئے وزیرقانون فروغ نسیم کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنادی گئی ہے۔یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبایےفواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں سی پیک کا ریویو کیا گیا، سی پیک کے 28 ارب کے پراجیکٹ جاری ہیں جبکہ سول قانون میں ترمیم کیلئے ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے اور ایک کروڑ نوکریاں اورپچاس لاکھ گھروں کیلئے بھی ٹاسک فورس بنادی ہے جس کیلئے 90 دن کا ٹائم مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام پراجیکٹس کیلئے ایک ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ چیئرمین نیشنل بینک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا کیوں کہ وہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں جبکہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس میں شاہ محمود قریشی اور خسر بختیار شامل ہیں، کمیٹی (ن) لیگ اور دیگرسے رابطہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں خواتین کا وراثت میں حصہ یقینی بنانے کیلئے قانون میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ہیلی کاپٹر کا استعمال وی آئی پی کلچر نہیں، سیکیورٹی کے ساتھ وزیراعظم کے بنی گالا جانے سے عوام کو مشکلات ہوں گی، وی آئی پی کلچر اور سیکیورٹی میں فرق کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر 15 دن بعد تمام ٹاسک فورسزسے پیشرفت رپورٹ لیں گے جبکہ گورننس کے حوالے سے بھی ریفارمز کی جائیں گی۔وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ فاٹا کے انضمام کےعمل کو تیز کرنےکیلئے کمیٹی بنادی ہے جس میں گورنر، وزیراعلیٰ، وزیر دفاع اور مشیراسٹیبلشمنٹ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ احتساب کے معاملے پرکوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔دوسری جانب وزیراعظم کےمشیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دو ستمبرکو ملک بھرمیں 15 لاکھ پودے لگائے جائیں گے اور اس دن پلانٹ فارپاکستان ڈے منایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں