34

پاکستان کا پہلا سیاسی نقشہ گوگل اور دیگر سرچ انجنز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فارمز پر بھجوانے کا ارادہ۔

حکومت پاکستان نے بروز منگل مورخہ 4 اگست 2020 کو پاکستان کے ایک سیاسی نقشے کی رونمائی کی۔ اس نئے نقشے کو جاری کرنے سے پہلے تقریبا تمام اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز لی گئیں اور سب سے پہلے پڑوسی ملک چین کے ساتھ بھی یہ نقشہ شیئر کر کے ان کو بھی اعتماد میں لیا گیا چین کو اعتماد میں لینے کے بعد پاکستان کے اس سیاسی آفیشل نقشے سے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ دفتر خارجہ میں مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا لیکن اس اجلاس میں جمیعت علماۓ اسلام نے شرکت کرنے سے واضح انکار کر دیا ذرائع کے مطابق حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو اس مشاورتی کانفرنس میں شرکت پر راضی کرنے کے لیے ٹاسک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سپرد کر دیا تھا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا تھا لیکن مسلم لیگ نواز جمیعت علمائے اسلام (ف) کو راضی کرنے میں ناکام رہی۔

وزارت خارجہ کی دفتر خارجہ میں منعقدہ اس اجلاس میں جمیعت علماۓ اسلام ف کے علاوہ تقریبا سب اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے نمائندگی تھی لیکن دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام ایک الگ قومی مشاورتی کانفرنس کا انعقاد بھی اسی دن کیا گیا جس کی صدارت آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد مسعود خان نے کی اور اس اجلاس میں جمیعت علمائے اسلام سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ یہ دونوں مجالس مسئلہ کشمیر ہی سے متعلق بلائی گئیں تھیں۔

بہرحال پاکستان کا پہلا سیاسی نقشہ بروز منگل جاری کر دیا گیا وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ اس سے پہلے پاکستان کا جغرافیائی نقشہ جاری کیا جاتا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پہلے بہارت ایک غیر قانونی نقشہ لے آیا تاکہ مقبوضہ کشمیر میں یہ بات پھیلائے کہ اب یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ کشمیر بہارت کا حصہ ہے اور اس طرح وہاں کے لوگوں میں کنفیوژن پیدا کرے لیکن بہارت کا وہ نقشہ چونکہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف تھا اس لیے ان کے اس اقدام کو کسی نے تسلیم نہیں کیا انہوں نے کہا کہ اس لیے اس امر کی عین ضرورت تھی کہ ہم ان کے اس نقشے کی نفی کریں اس لیے ہم نے سوچ سمجھ کر اپنا ایک فعال نقشہ جاری کر دیا ہے جو کہ کشمیری اور پاکستانی عوام کے موقف کو واضح کرتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس نقشہ کی رونمائی کے دوران قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کابینہ نے کشمیری لیڈر شپ اور پوری اپوزیشن کی لیڈر شپ نے اس نئے نقشے کی تائید کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ نقشہ پاکستانی اور کشمیری لوگوں کے اصولی موقف کی تائید کرتا ہے اور یہ نقشہ پاکستانی قوم کے امنگوں کی ترجمانی کرتا ہےوزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نقشہ سکول کالجز میں بھی پڑھایا جائے گا اور یہی نقشہ دوسرے سرکاری دستاویزات میں بھی استعمال کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا حل ایک ہی ہے اور وہ ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر کشمیر کے لوگوں کو ان کا حق دیتی ہیں اور یونائیٹڈ نیشنز کو ہم باربار یاد کروائیں گے کہ آپکا ایک وعدہ تھا جو آپ نے پورا نہیں کیا ہم ملٹری سولیوشن کو نہیں مانتے یہ نقشہ کشمیر کی آزادی کی طرف پہلا قدم ہے ہم پوری طرح پولیٹیکل جدوجہد کریں گے۔

پاکستان کے اس نئے پولیٹیکل میپ میں کشمیر سمیت دیگر متنازعہ علاقوں کو بھی پاکستان کا حصہ شمار کیا گیا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دفتر خارجہ میں اس نقشے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اب پاکستان کے نقشے کا حصہ ہے اور ہندوستان نے 5 اگست کے غیرقانونی اقدامات کے بعد ایک نقشہ جاری کیا تھا اور اس نقشے میں انہوں نے دنیا کے ساتھ مذاق کیا اور اپنی قوم کے ساتھ مذاق کیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے علاقے میں شامل کر دیا جو بالکل سلامتی کونسل کی قرار داد کے برعکس ہے پاکستان نے آج واضح کر دیا ہے کہ ہم ان عزائم کو مسترد کرتے ہیں اور ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ پورا علاقہ متنازعہ ہے حل طلب ہے اور ان شاء اللہ اسکا حل کشمیری اور پاکستانی لوگوں کی عین امنگوں کے مطابق سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق نکلے گا جس کا وعدہ ہندوستان کر چکا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس نقشے میں یہاں پر درج کر دیا گیا ہے “Indian illegally occupied jammu and Kashmir” یعنی ہندوستان نے غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر پر قبضہ کیا ہے اور “Disputed territory –
Final status to be decided in line with relevant unsc resolutions”
یعنی یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک راۓ شماری ہوگی جو فیصلہ کریگی کہ کشمیر کا مستقبل کیا ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے نقشے میں ایک سرخ لائن ہے جو کہ ماضی کے نقشوں میں پہلے ہی ختم ہو جاتی تھی لیکن اس نئے نقشے میں اس کو چین کے بارڈر سے ملا دیا گیا ہے جس سے واضح کردیا گیا ہے کہ سیاچن کل بھی ہمارا تھا اور آج بھی ہمارا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فاٹا کا علاقہ چونکہ اب خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم ہو چکا ہے اس لیے اب وہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اس لیے اس نقشے میں فاٹا کا نام ختم کر دیا گیا ہے اور افغانستان کی سرحد بھی اس نقشے میں واضح دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نقشے میں سائیڈ پر جو”Frontier undefined” لکھا ہوا ہے تو یہ اس وجہ سے کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ چین اور ہندوستان کے درمیان کافی عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے اور پاکستان کا بھی اس میں ایک موقف رہا ہے جس کی ہم نے مشاورت کے بعد یہاں وضاحت کر دی کہ جب کشمیر کا فیصلہ ان شاء اللہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے عین مطابق ہو جائے گا تو پھر اس وقت کی خود مختار ریاستیں اس کا بھی حل نکالیں گیں.
نیز سرکریک کا جو دعوی بہارت کرتا تھا اس نئے نقشے میں اس کی بھی نفی کر دی۔

سرکریک کا علاقہ پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارت کے ریاست گجرات کا درمیانی علاقہ ہے اس علاقے میں وافر مقدار میں پانی ہے یہ تقریبا ساٹھ میل تک کا سرحدی حد ہے
سرکریک کا علاقہ چونکہ پورا ایک اِکانامک زون ہے اور یہاں پر تیمر کے خوب صورت جنگلات ہیں یہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے یہاں پر گیس اور تیل کے ذخائر ہیں اور ماہی گیری کی وسیع صنعت کے بھی یہاں پر بہت مواقع ہیں اس لیے انڈیا اس خطے کے درپے ہے یہ موسمی اور جغرافیائی لحاظ سے مشکل ترین محاذ ہے۔

حکومت پاکستان نے اب اس نئے نقشے کو گوگل، بنگ، یاہو اور دیگر تمام سرچ انجنز کو بھجوانے کا فیصلہ کر لیا ہے اسی طرح پاکستان نے اس نقشے کو بین الاقوامی اداروں اقوام متحدہ اور او آئی سی کو بھی بھجوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس نقشے میں عالمی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی روشنی میں بیرونی حدبندی واضح کر دی گئی ہے اور بھارتی غیر قانونی دعووں کو بھی رد کر دیا گیا ہے۔

لداخ چونکہ کشمیر کا حصہ ہے تو نئے پولیٹیکل نقشے میں لداخ کو بھی پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اسی طرح وہ ریاستیں جنہوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا اور بھارت نے ان کو فوجی قبضے کے ذریعے بھارت میں شامل کر لیا جو کہ ریاست جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن میں مناودر کی ریاست انہوں نے اپنا الحاق پاکستان کے ساتھ کیا تھا اس لیے یہ علاقے نقشے میں پاکستان میں شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں