Maulana Bijli Ghar History in Urdu 186

مولانا محمدامیر بجلی گھرتاریخ کے آئینے میں

Maulana Bijli Ghar History in Urdu

حضرت مولانا محمد امیر المعروف مولانا بجلی گھر کی مختصر حالاتِ زندگی

حضرت مولانا محمدامیربجلی گھر۱1927میں درہ آدم خیل کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔آفریدی قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔  1950میں دارلعلوم سرحد سے  میں فارع التحصیل ہوئےاور کافی عرصہ تک اسی مدرسہ کے مدرس بھی رہے۔ مولانا  محمدایوب جان بنوریؒ، مفتی عبدالطیفؒ اور مولانا کابل باباؒ ان کے استاد تھے۔ مولانا بجلی گھؒر مرحوم کے شاگرد ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مولانا نے آمریت کے حلاف طویل جدوجہد کی اور جنرل صیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار میں کئی سال جیلوں میں رہے۔ اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مولانا  مفتی محمود مرحوم کےدستِ راست اور قریبی ساتھی رہے۔ خان عبدالولی خان، شاہ احمدنورانی اور دیگر سیاسی شخصیات سے وہ مولانا مفتی محمود کے ایلچی کے طور پر مذاکرات کیا کرتے تھے۔ انجمن تبلیغ قرآن و سنت کے زیراہتمام محرم الحرام اور ربیع الاول میں کوہاٹی چوک ، قصہ خوانی اور نمک منڈی میں ان کے اجتماعات کافی شہرت اختیار کر گئے تھے جن میں لوگ دور دراز علاقوں سے شرکت کرنے کے لئے آیا کرتے  تھے اور انہیں سنا کرتے تھے۔
پشتو زبان کے ایسے یکتائے روزگار اور قادرالکلام خطیب تھے کہ یوسفزئ پشتو میں انکی تقریر کی کوئ ثانی نہیں تھی-اپنے بزرگوں سے سنتے آرہے ہیں کہ پختونوں میں عوام و خواص میں یکساں مقبولیت رکھنے والا اور لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والا خطیب نہ اس سے پہلے گزرا اور نہ مستقبل قریب میں اسکے پائے کے خطیب پائے جانے کے آثار پائے جاتے ہیں-
مولانا ادیب،سخن دان و سخن شناس، بیک وقت مختلف زبانوں کی نازک خیال شاعری میں لگ جاتے تو سامعین سر دھنے بغیر نہیں رہتے- پشتو کے مشہور صوفی شاعر عبدالرحمن بابا کا دیوان انکو زبانی یاد تھا-انکی تقریر لازما ًرحمن بابا کے اشعار پر مشتمل ہوتی ۔
ایسے نبض شناس مقرر تھے کہ لوگوں کا دل مول لیتے تھے کئی کئی گھنٹے تقریر کرتے اور سارا مجمع دم بخود بیٹھا رہتا،مولانا بے حد ملنسار اور ہنسوڑ تھے ہنسی مذاق کے عادی تھے- اپنی ٹھوس و مدلل خطابت کا لوہا دشمنوں سے بھی منوالیا تھا-سامعین کو بیک وقت رلانے اور ہنسانے میں ید طولٰی رکھتے تھے- ہر آنے والے کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے-مولانا بڑوں میں بڑے،برابر والوں میں برابر والے اوربچوں میں بچہ تھے-آپکی شخصیت بڑی باغ و بہار تھی-حاضر جوابی میں انکا جواب نہ تھا- انکی تقریر مرد و خواتین بوڑھوں بچوں اور نوجوانوں میں یکساں مقبول تھی،اور زندگی کے مختلف طبقات آپکی تقاریر کو بڑے انہماک سے سنتے- اکثر اوقات سامعین کو سخت سست بھی کہہ دیتے لیکن اس سے سامعین اتنے ہنستے کہ انکی ہنسی نہیں رکتی
صرف خطیب ہی نہیں بلکہ ایک سماجی اور سیاسی رہنما بھی تھے-جسکا تعلق ابتداء ہی سے جمعیت علماء اسلام کے ساتھ تھا اور آخری دم تک جمعیت کے ساتھ وابستہ رہے- جمعیت علماء صوبہ سرحد کے نائب امیر جبکہ ضلع پشاور کے امیر بھی رہے ہیں-یہ وہ دور تھا کہ جمعیت کے ساتھ وابستگی بڑے دل گردے والوں کا کام تھا-(اس وقت مفتی شہاب الدین پوپلزئ کے والد محترم مفتی عبدالقیوم پوپلزئ رحمہ اللہ،حضرت ایوب جان بنوری، عبیداللہ انور کے والد گرامی مولانا محمد حسین سبز پیر والے،ڈاکٹر عبدالرحمن، مولانا رحیم اللہ، حاجی عبدالعزیز صاحب،ڈاکٹر فدا حسین صاحب اور دیگر بہت سارے علماء میدان سیاست میں جمعیت کے پیغام گھر گھر پہنچانے میں مصروف تھے)
مفتی محمود رحمہ اللہ کے اتنے گرویدہ تھے کہ جب ایک دفعہ انکا ذکر خیر شروع کرتے تھے تو پھر مسلسل انہی کے ذکر میں مزہ لے لے کر اتنے منہمک ہوجاتے کہ موضوع ہی تبدیل ہوجاتا-اپنی زندگی کے آخری میں بھی قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن انکی رہائش پر آکر انکے ساتھ بے تکلفی کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور انہیں اپنے تجربات کی روشنی میں مفید مشورے دیتے-
۱۹۷۰ کے عام انتخابات میں صوبائی حلقہ۴  سے سید عاقل شاہ کے والد لالا ایوب کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا-بہت کم ووٹوں سے ہارے تھے- اس وقت علماء انتہائ بے سروسامانی کی حالت میں اس معرکہ کارزار میں بے جگری کے ساتھ لڑرہے تھے
مولانا مرحوم نڈر،حق گو،حق پسند اور بے باک تھے آپکو اللہ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا مولانا کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انکا ظاہر و باطن ایک تھا-کبھی بھی حکومتوں کی جبر کی پروا نہیں کی اور نہ کبھی حکومتوں سے مفاد حاصل کئے- اگرچہ ہر حکومت نے انکو بڑی مرغوب پیشکشیں کی لیکن انکی خودداری نے ان سب کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ہمیشہ ٹہراتا رہا-ایوبی آمریت سے لے کر پرویزی مارشل لاء تک وقت کے ہر جابر و آمر کو شیر کی طرح دھاڑے مارکر للکارتا رہا-
علم و فضل کے ساتھ ساتھ وجاہت اور ڈیل ڈول بھی اللہ نے انکو عطا فرمایا تھا اپنے اساتذہ اور اکابر کے ساتھ جب وہ کسی مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے تو آنے والا اجنبی شخص سب کو چھوڑ انہیں کی طرف بڑھ کر مصافحہ کرتا تھا۔

خیبر پختوں خواہ کا یہ ممتاز عالمِ دین اور یکتائے روزگار خطیب 30 دسمبر 2012 کو 85 سال کی عمر میں اس جہانی فانی سے کوچ کر گئے۔  اللہ تعالیٰ اُن کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطاء فرمایں اور اُن کے درجات بلند فرمائیں ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں